Popular Posts

Wednesday, July 13, 2022

حضرت سید احمد اللہ قادری

 



حضرت سید مولانا احمد اللہ احمدی قادری ؒ

حضرت سید احمد اللہ قادری ابن حضرت سید الہام اللہ ابن حضرت سید خلیل اللہ ابن حضرت سید فتح محمد ابن حضرت سید ابراہیم قطب مدنی رضوان اللہ علیہ اجمعین شہر اکبرآباد میں اس وقت پیدا ہوئے جو مغلوں کے انحطاط اور سیاسی افراتفری کا دور تھا شاجہاں (سویم) شاہ عالم اکبر ثانی تھے تو ہندوستان کے بادشاہ لیکن در حقیقت انگریزوں کی سازشوں اور بڑھے رسوخ نے انہیں بے بس بنا دیا تھا ادھر بغاوتوں خانہ جنگیوں نے حکومت کو عاجز کر رکھا تھا دہلوی میں جب یہ اس ہو رہا تھا اسی وقت آگرہ جو مغل حکومت کے لئے اہم ترین شہر تھا جہاں نہ صرف سب سے زیادہ مغلوں کی تاریخہ عمارات ہیں بلکہ آگرہ قلعہ سیاسی طور پر علامتِ استقام حکومت بھی تھا اسی غرض سے باغیوں اور دشمنوں کے نشانے پر آگرہ پہلے رہتا ۔ جاٹوں کی بغاوت کے وقت بھی آگرہ کو نشانہ بنایا گیا ، مراتھوں نے بھی آگرہ کے اس پاس ڈیرا ڈالا الغرض یہ عہد انتشار کا تھا شرافاء نجباء سبھی اصطرابی حالت سے گزر رہے تھے اس صورت حال میں حضرت سید احمد اللہ قادری صاحب نے خدمت خلق اور تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیا صبر اور استقامت کے ساتھ علمِ ظاہر و باطن کی شمع کو جلائے رکھا سلسلہ عالیہ قادریہ میں آپ بیعت بھی فرما تے اور آپ کے کئی خلافاء کا ذکر بھی کتب میں مل جاتا ہے ۔آگرہ میں آپ کی شخصیت خصوصیت کی حامل تھی ۔ سعید احمد مارہروی صاحب لکھتے ہیں

حضرت کا اسم مبارک سید احمد اللہ عرفیت و تخلص احمدی ۔آگرہ کے سادات عظام اور علمائے کرام سے تھے رسمی علوم میں مولانا شاہ عادل اکبرآبادی کے شاگرد رشید تھے ۱۲۱۶ 1216ھ میں وصال فر مایا سید امجد علی شاہ قادری ؓ آپ کے فرزند رشید نے یہ تاریخ رحلت موزوں فرمائی جو آپ کے مزار واقع مسجد شاہی محلہ مدرسہ پر کندہ ہے

چوں بجنت کرد و مسکن مولوی معنوی

شمع بزم احمدی مجلس فروز قادری

برگزشتم از سر ہوش و شنیدم ایں ندا

مقتدائے راہ احمد بود بیشک احمدی

-حضرت سید امجد علی شاہ قادری اصغر اکبرآبادی ؓ

آپ کے تین صاحب زادے تھے بڑے سید امجد علی شاہ قادری منجھلے سید محمد میر اور چھوٹے غلام مصطفی مولوی ڈپٹی امداد العلی مرحوم جناب غلام مصطفے کے صاحب زادے ہیں

سعید احمد مارہروی : بوستان اخیار

حضرت سید محمد علی شاہ علامہ میکش اکبرآبادی ؒ نے اپنی معروف کتاب حضرت غوث الاعظم سوانح و تعلیمات مع تذکرہ فرزند غوث الاعظم میں لکھا ہے حضرت مولانا سید امجد علی شاہ اصغر ؒ کے والد ماجد مولانا سید احمد اللہ کا سلسلہ طریقت اباعن جد قادری تھا ابتدائی تعلیم بھی والد سے ہی حاصل کی۔ حضرت استشہادات میں لکھتے ہیں حضرت قبلہ گاہی صاحب یعنی والد صاحب حضرت احمد اللہ قادری خواجہ معین عمر بندی کی مسجد (جو لودھی خاں کے ٹیلے کے پاس جو آج فری جنگ اور دنیا گنج کے پاس واقع ہے ) کے پاس کی حویلی میں سکونت پذیر رہے اور خواجہ معین سمرقندی کی مسجد میں نماز پنجگانہ جمعہ اور عیدین پڑھاتے رہے اور مجلس وعظ برپا فرما تے رہے مریدین کی نماز میں آپ کے پیچھے قریب ہزار آدمی نماز پڑھتے تھے.

جاٹگردی کے زمانے میں ہماری حویلی میں آگ لگی تمام کاغذات مع املاک اور جاگیر کے جل گئے اور تقریبا ایک ہزار کتابیں بھی جل گئی پختہ حویلی کوئلہ ہو کر رہ گئی اس زمانے میں حضرت قبلہ گاہی صاحب (حضرت سید احمد اللہ قادری ) مدرسہ سید افضل خاں میں اپنے استاد مولانا عادل صاحب کے پاس تشریف لے آئے کیوں کہ وہ حضرت قبلہ کے استاد تھے اور مدرسہ ان کی ملکیت تھا اور میر منا کو جو حضرت قبلہ گاہی صاحب کے خلیفہ تھے مسجد خواجہ معین خاں میں مقرر کردیا وہ وہاں واعظ و جماعت حسب دستور کرتے رہے ( صفحہ 190، 191 )۸

حضرت کا مزار درگاہ پنجہ مدرسہ شاہی (درگاہ حضرت سید امجد علی شاہ قادری ؓ) میں مسجد کے سامنے ہے

-سید فیض علی شاہ قادری نیازی 


طر فتہ العینِ آگرہ:  اردو ادب اور تاریخ

   شہر اگرہ عہدِ اکبری سے ہی ادب دوست اور  علم  گیت رہا ہے ادیب اور درویش یہاں کسرت سے ہوئے جو اپنے طرح کے منفرد آہنگ و طرز  رکھنے والے ہیں آگرہ کی موجودہ بساوٹ اور نقشہ جس بنیاد پر قائم ہے وہ ابراہیم لودھی کا بسایا ہوا شہر ہے جو جمنا کے دونوں طرف برابر تھا آج بھی اگر جیوگرافیائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس زمانے کے آثار  نظرآجائں گے  کہیں کہیں کجھ ٹوٹی سی کجھ کجھ باقی عمارات موجود ہیں جو اس  عہد کی تعمیر اور طرزِ تعمیر کو دکھاتی ہیں


  اپنے وقت اور شان کا نشان بنی نظر آتی ہیں  لودھی علم دوست تھا اور درویشوں سے محبت کرتا تھا آگرہ میں ایران عرب ترکی عراق کے بڑے بڑے  مشائخ فقہاء کو بڑی احترام سے بلایا تواضع کی انکی معالی امداد کی حکومتی مشورے انسے لیتا، دیکھتے ہی دیکھتے آگرہ علم و ادب نیذ  اہلِ  صفاء کا مرکز بن گیا سید رفع الدین محدث رح کی مسجد  اور خانقاہ اسی دور کی تعمیر ہے آج یہ محلہ "بیلن گنج" کہلاتا ہے جو انگریزوں کے زمانے میں ایک افسر کے نام "بیلون" پر بدل دیا گیا تھا اس دور میں یہاں بڑی بڑی حویلیاں ہوا کرتی تھی آصف خاں (جو شاہ جہاں کے خاص درباری تھے ) نے یہاں کئی حویلیاں بنوائں  اور بھی نہ جانے کتنے محلات تھے جو جو پہلے 1857 ء میں بعد میں 1947 میں حالات اور تغیوراتِ زمانہ کا شکار ہوئی  خیر

دور بدلتے گئے لودھیوں کی حکومت جاتی رہی بادشاہ  بابر نے آگرہ کا رخ کیا یہاں کی آب  و ہوا  اور اپنی حکومت کے طرز کو  مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا دار السلطنت بنا دیا اکثر آگرہ میں وقت گزارتا تھا کئی مسجد اور باغ منوائے جس میں سے آرام باغ آج بھی موجود ہے ایک مسجد بھی احتماد الددولہ کے صدر دروازے کے سامنے واقعہ ہے  آگرہ اکبر کے دور میں ہندوستان کا مرکزی شہر بنا اکبر نےسلطنتِ مغلیہ کو مظبوت کرکہ ایک مرکز دارالسلطنت آگرہ سے باندھ دیا اسی عہد میں بہت سارے محل عمارات اور حکومتی دفتر   بھی بنوائے  الغرض ایک پورا نیا شہر وجود میں آگیا جسے فتح پر سیکری کہا جاتا ہے یہ جگہاں آگرہ کی شہری بساوٹ سے 36 کلومیٹر دور واقعہ ہے جس میں حکمت یہ تھی کے راجپوت راجا جو ہمیشہ مغل حکومت کو کمزور کرنے کے درپہ تھے آئے دن نئی سازش رچتے تھے راجستھان کی  سرہد اسی شہر سے متصل تھی ان کی نگرانی یہیں  سے  ممکن ہو سکتی تھی   آگرہ میں لال قلعہ بھی اکبر کی ہی بنائی عمارت ہے یہیں سے اکبر نے پورے ہندستان پر حکومت کی اسی شہر میں اکبر کا ادب پروان چڑا جو بعد میں پورے ملک کی شان اور پہچان ہو گیا  مزہب و زبان کے عالم کو اس دربار میں عزت ملتی تھی" آگرہ اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں تک ہندوستان کی راجدھانی رہا یہی دور حکومتِ مغلیہ کا زریں دور بھی ہے "  زبان اردو کی بنیاد بھی اسی قلعہ سے اکبر کے دربار میں پڑی عہدے شاجہانی میں اس زبان میں اور نکھار آیا فوج کام نام  " اردو معلہ"تھا جس کے معنی لشکر ہے  ان کی زبان  جو تمام ملک کے لوگوں کے ایک جہاں اکھٹٹے ہونے اور اپسی کلام سے شکلے اردو اور نامِ اردو سے جانی جانے لگی یہ سرکاری زبان جو اس وقت فارسی تھی کے بنا پرقائم ہوئی جس  میں عربی, فارسی سنسکرت ,ترکی, پوربھی برج بھاشا دکھنی اودھی کجھ کجھ بنگالی زمان شامل ہے ،

اردو کے نظریاتی اور سیاسی سماجی  پہلو پہ نظر ڈالی جائے تو اکبر اور آگرہ اس کے بنیادی عناصر نظر آئنگے اردو کا پہلا  نام ہندوستانی زمان ہے جس کے داغ بیل حضرت امیر خسرو رح(جو حضرت سید نظام الدین اولیاءرضہ  کے  محبوب مرید اور شاگرد تھے )  کے ادب سے پڑتی ہے  بحر حال آگرہ اردو کے بانی شہر ہونے کا مدلل اور صادق داوے دار ہے اودھ,  دکھن پنجاب بہار میں اردو کے لئے سنگِ بنیاد رکھنے والے شعراء ادیب ولی اورنگاآبادی، قلی قطب شاہ ولی دکھنی خواجہ میر درد ملاّ وجہی وغیرہ  پیدا ہوئے اردو ارتقاء میں ان کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے ہمارا مقصد تو شہر آگرہ اور اردو کا تعلق بیان کرنا ہے جو اپنے سیاسی اور سماجی ارتقائی بنا پر اہم ہے   اردو ادب کی تاریخ لکھنے والے کسی طرح اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے

میر تقی" میر" مرزا غالب خواجہ مرزا  "مظہر" جانِ جانہ مصطفٰے خاں "شیفتہ"سراج الدن خان "آرزو"  "ماہر" اکبرآبادی ,نبی بخش" حقیر" نظیر" اسیر " رہا " رئیس شاہ سید امجد علی"  اصغر " شاہ سید مظفر علی "اللہی " رح  ابو الحسن "شیدائی" سعادت علی "سعید" اکبرآبادی مرزا "حاتم" علی بیگ حکیم محمود علی خاں ماہر اکبرآبادی  "نثار اکبرآبادی

نظام الدین "دلگیر" شاہ "سیماب"اکبرآبادی  علامہ حضرت سید  "میکش" اکبرآبادی رح   مخمور سعیدی ،  لطیف لام ل اکبرآبادی مخمور اکبرآبادی شاہ" اکبر "دانا پوری ابو العلائی آگرہ کے ایسے شعرا ء ہیں جن کا کلام دنیا بھر میں مشہور ہوا اور ایک عالم ان کے نام سے  واقف ہے اور نہ جانے کتنے ادیب شعراء ہیں   جو آگرہ کی تہزیب کی  ہی طرح بن پہچانے بن منوائے اپنی درویشانہ خو لئے تاریکی میں اس سرزمین میں سو رہے ہیں

جن میں سے بعاز آگرہ 1950 کے بعد  باہر جا کر آگرہ کا نام روشن کرتے رہے  ملاحاظہ کیجئے

علامہ سیماب اکبرآبادی

اعجاز حسین صدیقی اکبرآبادی

"صبا" اکبرآبادی

رانا اکبرآبادی

اختر اکبرآبادی

ماسٹر بشارت علی خان ارمان آفریدی اکبرآبادی

فضل الدین اثر اکبرآبادی

فیاض حسین سیفی اکبرآبادی

سید عباس علی سرور اکبرآبادی

محمد صادق ضیاء اکبرآبادی

شمشاد حسین منظر صدیقی

مرزا عاشق حسین بزم آفندی اکبرآبادی ،نجم آفندی اکبرآبادی وغیرہ

-سید فیض علی شاہ, آگرہ

مآخذو مراجع

آینئہ اکبری  : ابو الفضل

دربارے اکبری:  محمد حسین آزاد

شعر آگرہ نمبر 1936 :  مدیر سیماب اکبر آبادی 

بوستانِ اخیار : سعید احمد مارہروی

مفکر اسلام شیخ طریقت حضرت سید  علامہ محمد علی شاہ میکش صاحب رحمہ اللہ علیہ : سوانح اور کردار

 



حضرت سلطان المشائخ محبوب الہی سید محمد نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں " درویشی پردہ پوشی است " درویشی چھوپانے کا نام ہے اس قول مبارک کی روشنی میں طرح کی پردہ پوشی مراد ہے ایک لوگوں کے عیب چھاپانا ان کو ظاہر نہ کرنا دوسرا اپنا احوال پوشیدہ رکھنا صوفیہ اسی پر کار بند رہتے ہیں حضرت سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی رح بھی انہیں درویشوں میں ہیں جنہوں نے خود کو شاعری اور سادگی کے پردے میں چھوپایا یہی وجہ ہے کہ ان کی عام مقبولیت بحیثیت شاعر نقاد ادیب زیادہ ہوئی چہ جائے کہ شعر گوئی اور تصانیف کا موضوع تصوف ہی ہے ۔ حضرت کی زندگی جس کردار کی حامل ہے وہ ایک صاحب حال صوفی تصوف کی روایات اور وراثت کو  آگے بڑھا نے والے مخلوق کے ہادی حسن خلق رکھنے والے اعلی انسانی قدریں رکھنے والے خدا پرست انسان ہی ہے



"مفکر اسّلام شیخِ طریقت مرشدنا سیدنا مولانا سید محمد علی شاہ جعفری قادری نظامی نیازی علامہ میکش اکبرآبادی رحمہ اللہ علیہ دنیائے ادب اور تصوف کی ممتاز شخصیت کا نام ہے" ہندوستان  کی مشہور صوفی  شخصیت اور  اردو کے استاد شاعر کی حیثیت سے ساری دنیا میں جانے جاتے ہیں ساتھ ہی شیخِ طریقت عالمِ دین ہونے کا شرف بھی حاصل ہے یہی آپ کی مورثی پہچان بھی ہے

ولادت : 3 مارج 1902 میں آگرہ میں آبائی مکان میں ہوئی، والد کا نام سید اصغر علی شاہ جعفری قادری نظامی

خاندان: "حضرت سید محمد علی شاہ صاحب میکش قادری نیازی آگرے کے ایک ایسے مشہور و ممتاز خاندان کے فردِ بزرگ ہیں جو بلحاظ شرافت و نجابت اور بحیثیت تقدس ظاہر و باطن اپنا جواب نہیں رکھتا اور چونکہ گزشتہ صدی عیسوی میں حامل عنانِ نظم و نسق شہر بھی رہ چکا ہے اس لئے قریب قریب  تمام دینی و دنیاوی وجاہتوں کا طرہ امتیاز اپنے سر پر لگائے ہوئے یے اور یہی وجہ ہے کہ آگرہ کی کوئی تاریخ ،کوئی فیملی خاندان اور کوئی شخصیت ایسی نہیں جو انتہائی عظمت اور دلی محبت کے ساتھ اس گھرانے کا نام نہ لیتی ہو "(1)

"چونکہ آگرہ کے تمام سجادگانِ خصوصی کا سلسلہ ارادت آپ کے جد امجد مولوی سید امجد علی شاہ رحمتہ علیہ تک پہنچتا یے اس لئے اس آستانہ کی جبیں سائی "ارض تاج" میں علی العموم باعثِ فخر و مباہات سمجھی جاتی ہے ،اور جناب میکش مسلم طور پر اس خاندان کے وارث اور جانشین مانے جاتے ہیں "

(انوار العارفین  تحفئہ طہران، ساداتِ صوفیاء ،تذکر معصومین وغیرہ  ) -فضلِ امام

شجرہ نسب :

سید محمد علی شاہ ابن سید اصغر علی شاہ ابن سید مظفر علی شاہ  ابن  سید منور علی شاہ ابن سید امجد علی شاہ ابن سید مولانا احمد اللہ احمدی ابن سید مولوی الہام اللہ ابن سید خلیل اللہ ابن سید فتح محمد ابن سید ابراہیم قطب مدنی ابن سید حسن ابن سید حسین ابن سید عبد اللہ ابن سید معصوم ابن سید عبید اللہ نجفی ابن سید حسن ابن سید جعفر مکی ابن سید مرتضٰی ابن سید مصطفٰے حمید ابن سید عبدالقادر ابن سید عبد الصمد کاظم ابن سید عبد الرحیم ابن سید مسعود ابن سید محمود ابن سید حمزہ ابن سید عبد اللہ ابن سید نقی ابن سید علی ابن سید محمد اسد اللہ ابن سید یوسف ابن سید حسین ابن سید اسحق المدنی ابن امام المشارق و المغارب امام سید جعفر صادق ابن امام سید محمد باقر ابن امام زین العابدین سید علی بن سید الشہداء امام حسین ابن امیر المومنین امام المتقین سید علی مرتضٰی کرم اللہ وجہ و علیہ اسلام  اخی حضرت احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

بیعت و ارادت: حضرت سید محمد علی شاہ قادری نیازی رح کو قطب عالم مدار اعظم حضرت شاہ نیاز احمد نیاز بے نیاز قادری چشتی نشقبندی سہرودی رضی کے نبیرہ و سجادہ نشین دوم سراج السالکین حضرت شاہ محی الدین احمد قادری چشتی نیازی رضہ سے شرف بیعت کم سنی ہی میں حاصل ہوگیا تھا  فرماتے ہیں کم عمری  ہی میں حضرت سراج السالکین محی الدین احمد نظامی بریلوی سے شرف بیعت نصیب ہوا جس کی وجہ سے زندگی میں بہت بڑا انقاب رونما ہوگیا۔ ان کی زیارت کے بعد مجھے جنید بغدادی اور بیزید بسطامی کی زیارت کی تمانہ نہ رہی آپ کی ساری روحانی طربیت حضرت نے ہی کی 22 بائس سال کی عمر میں خرقہ خلافت سے سرفراز کیا

تصوف کی تعلیم:  خانقاہ عالیہ  نیازیہ بریلی شریف میں رہکر ذکر اشغال اصول سیکھے سلوک کے درجات تہ کئے تصوف کے رسالہ اصول وقوائد دیگر تعلیم حاصل کئں

درسہ نظامیہ کی تکمیل مدرسہ عالیہ شایہ جامع مسجد آگرہ سے کی تھی ہندوستان کے بڑے بڑے علماء سے درسہ حدیث فقہ تفسیر وغرہ میں یدطولہ رکھتے تھے علم جفر علم رمل کے حامل بھی تعلیم و تحقیق کا کے سفر یوں تو پری زندگی جلتا رہا خاص کر تصوف پہ آپ کو درجہ کمال حاصل تھا تصوف کی قدیم و اصولی شاید ہی کوئی ایسی کتاب ہو جس سے آپ نہ واقف ہوں یا اس میں بیان کردہ نظریے سے نبلد ہوں

عقیدہ : علامہ محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی کو صوفیانہ مسلک وراست میں ملا اور آپ کا خاندان قادری سلسلے سے وابستہ چلا آتا ہے آپکے جد سید مظفر علی شاہ صوفی بزرگ تھے سلسلہ قادریہ چشتیہ نظامیہ نیازیہ  سے تعالق رکھتے تھے اہلِ سنت و الجمعات حنفی فقہ کے مقلد تھے اہلِ بیت کے عاشق اور صحابہ کا احترام کرنے والے تھے فرماتے ہیں

میکش میرا مرتبہ نہ پنچھو

ہوں پنجتنی و چار یاری

حضرت میکش اکبرآبادی صاحب قبلہ وحدت  الوجود کے ماننے والے ہیں  شیخ اکبر ابنِ عربی رح کے حوالے سے مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ،

" صوفی خصوصًا شیخ اکبر ابنِ عربی کے مقلدین اور جمہور صوفیہ کا مسلک یہ ہے کہ ظاہر و باطن خدا کے سوائے کوئی موجود نہیں ہے یہ دیکھائی دینے والا عالم جو خدا کا غیر محسوس ہوتا ہے اور جسے ماسوا کہتے ہیں ،ماسوا نہیں ہے نہ خدا کے علاوہ اور غیر ہے بلکہ خدا کا مظہر ہے خدا اپنی لا انتہا شانوں کے ساتھ اس عالم میں جلوہ گر ہے ،یہ غیرت و کثرت جو محسوس ہوتی ہے ہمارا وہم اور صرف ہماری عقل کا قصور ہے یعنی ہم نے اسے غیر سمجھ لیا ہے  در حقیقت ایسا نہیں ہے ، حضرت ابن عربی نے کہا ہے "الحق محسوس الخلق معقول"  یعنی جو کچھ محسوس ہوتا ہے اور ہمارے حواس جس  کو محسوس کرتے ہیں وہ سب حق ہی ہے ، البتہ ہم جو کچھ سمجھتے تھے وہ مخلوق ہے یعنی مخلوق ہماری عقل نے فرض کرلی ہے در حقیقت نہیں"

نظریہ اور مزاج :  فرماتے ہیں میں ذاتی حیثیت سے میں نے نی کسی مسلک کو ترجیح دینے کی کوشش کی اور نہ کسی مخصوص گرپ یا گروہ کی نمائندگی کی ہے استدلال کی بات اس سے الگ ہے ،اور وہ کسی کے بھی موافق اور کسی کے بھی خلاف ہو سکتا ہے ،لیکن میں گزرے ہوئے بزرگوں کا ادب اور ان کی خدمت میں حسنِ ظن ،اختلافِ خیال کے باوجود ضروری سمجھتا ہوں ،اور ان کے باہمی اختلاف کو آزادئیے خیال اور صداقت کا مظہر سمجھتا ہوں ، کوئی قوم اور ملک ایسا نہیں ہے جہاں ہادی اور پیغمبر نہ آئے ہوں عرب اور عراق ہو یا ایران اور ہندوستان خدا کی رحمت اور تعلیم سے کوئی محروم نہیں رہ سکتا لیکن ان پیغمبرں کی تعلیمات ہم تک پہنچی ہیں ،ان میں ہمارے فہم اور معتقدات و روایات نے بھی تصرف کیا یے ،جو کبھی تحریف اور کبھی تاویل کی شکل اختیار کرتا آیا ہے  ،اور یہیں سے  اختلاف شروع ہوجاتے ہیں یہ اختلاف جس طرح ایک ہی مزہب کے ماننے والوں میں باہم ہوتے ہیں اس طرح دوسرے مزاہب کے مقلدین سے بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں اپنے مزاجوں صورتوں اور آپ و ہوا کے اختلافات کی طرح ان اختلافات کو بھی فراخ دلی سے برداشت کرنا چاہیے اور جب ہم ساری دنیا کے ہم خیال نہیں تو مہیں بھی ساری دنیا کو اپنا ہم خیال ہو جانے کی توقع نہیں کرنی چاہیئے

بہت بلند ہے میری نگاہ اے میکش

وہ اور ہونگے جو عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں

عبادت : پوری زندگی ذکر الہی اور عبادت کے لیے وقف تھی تصور ذات میں مشغول رہتے آخری عمر تک نماز قضاء نہیں ہوئی ۔ کثرت ذکر سے ایک عالم میں ڈوب نظر آتے، شغل و کثرت ریازت سے چشہرا سرخ رہا کرتا ۔

قلندرانہ انداز: تمام علمی  عملی روحانی خاندانی وضعداریوں کے ہوتے ہوئے آپ میں دنیا سے بے رغبتی و بے نیازی تھی شہرت عزت و ناموز سے نفرت کی حد تک پرہیز کرتے اخلاص میں محتاط ہونا صوفیاء کا اجتہاد ہوتا ہے یہ اجتہاد ان کی زندگی کے ہر گوشہ میں دکھائی دیتا ہے دولت، منسب و نام وری سے بہت دور گویا حزب ضرورت رزق سے متمئین ہوں اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں

آزاد ہے کونین سے وہ مرد قلندر

میکش کو نہ دے تاجِ بخارا و سمرقند

عشق اہل بیت :  عشق اہل بیت اسلام میں بنیادی عقیدہ ہے صوفیہ کے ایمان اور طرقی درجات کی شرت اول ہے حضور کا ارشاد ہے جس نے میرے اہلِ بیت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔ اس لئے  خاندان رسول کا عشق ان کا ورثہ بھی ہے ایمان کا جذ بھی اور نسبی تقاضہ بھی امیر الممنین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہ کی شان میں فرماتے ہیں

یہ قید نام و نشاں لا الہ الا اللہ

یہاں علی ہی علی ہیں وہاں علی ہی علی

حضرت امام حسین علیہ کی شان میں فرماتے ہیں

غلام اس کا ہوں میکش کے جمع ہیں جس میں

خدا و بند و خد بینی و خدا بینی

 

وصال:  ۲۵؍اپریل ۱۹۹۱ء کو آگرہ میں اپنے حجرے میں وصال فرمایا ۔

12 سال پہلے ہی اپنی تاریخ وصال لکھ کر مجموعہ کلام "داستان شب"  قطبہ قبر کے عنوان کے ساتھ  شایہ کر دی تھی

جو فرش گل پر سو نہ سکا جو ہنس نہ سکا جو رو نہ سکا

اس خاک پہ اس شوریدہ سر نے آخر آج آرام کیا

بستر پر بھی عبادت اور ذکر سے غفلت نہ کی ضعوف و بیماری نے آپکے اخلاق و برتاو میں کوئی فرق نہیں کیا تھا

اپکی عقیدہ مندوں مریدوں کی بڑی تعداد پوری دنیا میں موجود ہے

خلفاء :

حضرت سید معظم علی شاہ عرف محمد شاہ قادری نیازی (فرزند اکبر و جانشین )

حضرت سید چراغ علی قادری

(سجادہ نشین درگاہ فرزند غوث اعظم حضرت شاہ عبداللہ بغدادی رضی )

جناب  پروفیسر عنوان چشتی

( پروفیسر: جامیہ ملیہ اسلامیہ دہلی ،و  مشہور ادیب و شاعر )

جناب پرفیسر مسعود حسین نظامی

(بریلی شریف یوپی)

جناب قاسم علی نیازی

(حیدرآباد، پاکستان )

وغیرہ

بزم میکش : حضرت  کی یاد میں آپ کے جانشین حضرت امجل علی شاہ صاحب قادری نیازی نے 1994-1995 میں بزم میکش قائم کی جو اردو ادب کی قدمت کرنے والی شخصیات و اعزاز و اکرام پیش کرتی ہے نشر و اشاعت کا کام بھی انجام دے رہی ہے

خانقاہ آگرہ: خانقاہ قادریہ نیازیہ آستانہ حضرت میکش سے آزاروں لوگوں کی دینی و دنیاوی حاجات پوری ہوتی ہیں آگرہ میں چار سو 400 سال کم و پیش اس خانقاہ کو ہوچکے ہیں جہاں رشد و ہدایت کا کام جاری و ساری ہے جہاں تصوف کے بنیادی اصول کی پابندی کے ساتھ خدمت خدمت خلق اور تبلیغ کا کام سرانجام دیا جاتا ہے سال پر نذر و فاتع و سلسلہ قادریہ چشتیہ کے مشائخ اعظام حضرات اہل بیت کے سالانہ و مہانہ نزورات کا اہتمام ہوتا ہے شہر آگرہ میں یہ خانقاہ سب سے پرانی اور منفرد مقام کی حامل ہے

تصانیف: :’میکدہ‘، ’حرف تمنا‘(شعری مجموعے)، ’نغمہ اور اسلام‘(جواز سمع)، ’نقد اقبال‘ (تنقید)، ’شرک وتوحید‘(مذہب)، ’حضرت غوث الاعظم‘(مذہب)، ’مسائل تصوف‘(ادب)۔ ’’حرف تمنا‘‘ ،’’نقد اقبال‘‘ اور ’’مسائل تصوف‘‘ پر اترپردیش اردو اکادمی کی طرف سے انعامات ملے۔ وہ شاعر کے علاوہ نقاد اور ماہر اقبالیات و تصوف تھے۔

حضرت سید محمد علی شاہ علامہ میکش اکبرآبادی  پر ادیب و شعراء کا اظہار عقیدت :

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی حضرت میکش اکبرآبادی صاحب ہم اثر اور قریبی لوگوں میں سب سے زیادہ بے تکلف اور مخلص لوگوں میں سے تھے دوران قیام آگرہ آستانہ حضرت میکش پر انکا آنا ہوتا تھا محفل شعر و سخن اور تبصروں کا دور رہتا تھا 

گورے چٹے,کھڑا ناک نقشہ۔شگفتہ چہرہ,شائستہ گفتار,ذی علم,شاعر,صوفی صافی,اور اس میں بھی ایسے شرمیلے کہ جب کوئ خوب رو عورت سامنے آجاتی ہے تو ان کی انکھیں جھک کر کہنے لگتی ہیں میرے اللہ کدھر جا کر چھپ جاؤں"

ان کے چہرے پر,پاکیزگئ اخلاق,اور طہارت نفس کی اس قدر شیرینی ہے کہ جب ان کی طرف نگاہ ہوں تو میرے منھ میں قند کی ڈلیاں گھلنے لگتی ہیں۔

وہ مشائخ آگرہ میں سے ہیں,نہ کسی کو مرید بناتے ہیں,نہ کسی کی نظر قبول کرتے ہیں ۔

دنیا کی دو تاریخی ہکلاہٹیں ہیں, ایک تو موسیٰ کی ہکلاہٹ تھی جس پر اللہ میاں کو پیار آتا تھا۔ایک مسیح میکش کی ہکلاہٹ ہے,جس پر مجھ اللہ میاں کے نمائندہ خصوصی کو پیار آتا ہے۔میوہ کٹرے میں ان کا گھر ہے,بالا خانے پر رہتے ہیں,زینہ دن کے وقت بھی گھپ رہتا ہے,کوں نہ ہو کہ ظلمات طے کرکے ناطق حیوان تک رسائ ہوتی ہے۔

جوش صاحب نے اپنے ایک خط میں میکش اکبرآبادی کو برادر ذہنی اور رفیق روحانی کہہ کر مخاطب کیا ہے۔باغ لکھنؤ سے7 مئ 1941ء کو لکھے جانے والے ایک خط میں جوش صاحب کہتے ہیں:

میکش صاحب ہمارے اور آپ کے راستے کسی قدر ایک دوسرے سے جدا اور ہماری زندگیاں کس قدر ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر یہ عجیب بات ہے کہ ہم ایک دوسرے کی طرف کھچنے پر اپنے کو مجبور پاتے ہیں۔ایک دوسرے کو عالمی تصور کے دھندلکے میں محو خرام دیکھا کرتے ہیں میں دل میں آپ کے خط آنے سے دو تین روز بیشتر کہہ رہا تھا کہ یہ میکش بھی عجیب شخصیت کے مالک ہیں۔جو فرصت کے لمحوں میں مدت سے تعاقب کرتے رہتے ہیں شاید آپ اس وقت مجھے خط لکھ رہے ہونگے اور اسی کی لہریں میرے دل سے مس ہوئ ہوں گی"(جوش ملیح آبادی کے خطوط,مرتبہ خلیق انجم,انجمن ترقی اردو ہند 1998ء)۔

ان کا نام ہے محمد علی شاہ,اور تخلص ہے میکش,لیکن مے کو ہاتھ لگانے کی توفیق انھیں آج تک نہیں ہوئ۔میں نے ان پر جو رباعی کہی تھی آپ بھی سن لیں:

حضرت کا ہے ,دنیا سے نرالا دستور

باطن میں تہی دست,بظاہر غففور

میکش ہے تخلص,اور مے سے ہے گریز

برعکس نہند,نام زنگی ,کافور

ان کا بیٹا فلسفے کا ایم۔اے ہے لیک  صد حیف کہ باپ کا تصوف ,بیٹے کی تفلسف کو نگل چکا ہے۔تنسیخ زمین داری نے ,لاکھوں زمین داروں کے مانند ,ان کے دل کو بھی بجھا کر رکھ دیا ہے,مگر منھ سے اف تک نہیں کرتے ہیں,اور اپنی قدیم وضع داری کو نباہ تے چلے جا رہے ہیں۔

1967ء میں,ان سے ملنے آگرے گیا تھا۔اب رہ کیا گیا ہے آگرے میں تاج محل اور میکش کے علاوہ۔دونوں کو جی بھر کے دیکھا,اور اس طرح دیکھا کہ شاید یہ آخری دیدار ہو۔

جگر مرادآبادی * جس محفل میں میکش موجود ہوں اس میں ،میں صدارت کروں یہ مجھے گوارا نہیں

*علّامہ نیازؔ فتحپوری*

میکشؔ آگرے کی ادب خیز سر زمین سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں کی تمام فنّی وزن رکھنے والی ادبی روایات سے واقف ہیں اسی لۓ ان کے کلام میں وزن ہے,فکر ہے,متانت ہے,سنجیدگی ہے۔اور اسی کے ساتھ شگفتگی اور ترنم بھی۔ان کے جزبات جتنے ستھرے ہیں اتنا ہی ٹھراؤ ان کے اظہار میں بھی پایا جاتا ہے۔  نگار 1955ء

*علاّمہ سیمابؔ اکبرآبادی*

فطرت میں علم و فضل کی دنیا  لۓ ہوۓ سیرت میں جلوہ ید بیضا لۓ ہوۓ خرقہ بدوش محفل ناز و نیاز میں سجادہ و گلیم و مصلےّٰ لۓ ہوۓ خود میکش اور خود ہی قدح نوش و مے فروش جام و سبو و شیشہ و صہبا لۓ ہوۓ۔

*حامد حسن قادری*

حلیہ دیکھو تو ٹھیٹھ اکبرآبادی اور دل ٹٹولو تو مکّی مدنی و بغدادی و اجمیری۔میکشؔ  صاحب شاعری میں اس قدر صحیح مزاق اور لطیف طبیعت رکھتے ہیں کہ بس اس کے آگے خدا کا ہی نام ہے۔

*علاّمہ اثرؔ لکھنوی*

"حرف تمنّا" اردو کے ذخیرے میں بیش بہا اضافہ ہے۔اس کی لطافتیں بیان کرنے کو دفتر درکار ہے۔زبان شعر و نغمہ میں کیسے کیسے رموز,نکات بیان کۓ ہیں اور کیسی کیسی پتہ کی باتیں کہی گئ ہیں۔

آجکل 1956ء

*آل احمد سرور*

آج میکش سے ملاقات میں محسوس ہوا ہند میں صاحب عرفان ابھی باقی ہیں لاکھ برباد سہی بھر بھی یہ ویراں تو نہیں اس خرابے میں کچھ انسان ابھی باقی ہیں۔

*مخمورؔ اکبرآبادی*

جناب میکشؔ مفروضہ ازلی سے مجھے میرؔ و غالبؔ کی صحبت میں فروکش نظر آتے ہیں۔ان کا حضور قلب,ان کا سکون نفس, ان کا ذوق و شوق,ان کی شورش باطن ان کی بصیرت و معرفت ان کی دقت نظر اور ان کا تغزل معیاری و یادگاری اجزاۓ شاعری ہیں۔

* ڈاکٹر سرور اکبرآبادی *

ترے افکار سے اندازہ الہام ہوتا یے

محبت کا تخاطب عشق کا پیغام ہوتا یے

ترے میخانہ عرفاں کا اک اک رند اے میکش

سرور و کیف مستی کا چھلکتا جام ہوتا ہے


-سید فیض علی شاہ جعفری قادری نیازی






















حضرت شیخ سید امجد علی شاہ قادری رحمہ اللہ علیہ فخر الاولیاء سید السند محب الفقراء والغربا شیخ المشائخ طریقئہ قادریہ حضور سید امجد علی شاہ جعفری القادری رحمہ اللہ علیہ

 حضرت شیخ سید امجد علی شاہ قادری رحمہ اللہ علیہ 


فخر الاولیاء سید السند محب الفقراء والغربا شیخ المشائخ طریقئہ قادریہ حضور سید امجد علی شاہ جعفری القادری رحمہ اللہ علیہ

آگرہ کی صوفیانہ تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا خود آگرہ، شری کیشن کے دور سے محبت اور روحانیت کا مرکز رہا لیکن مسلم صوفیانہ روایات کی ابتداء سلطان سکندر لودی سے ہوتی ہے جس نے آگرہ کو دار السلطنت بنا کر از سر نو تعمیر کیا یہ رونق اکبرِ اعظم اور شاہ جہاں تک آتے اتے دوبالا ہوگئی ویسے تو پورے ہندوستان میں صوفیاء اس عہد میں کثرت سے ہوئے ہیں لیکن آگرہ کے لئے یہ دور سب سے سنہرا دور تھا سلسلہ قادریہ  کے بڑے بڑے بزرگ جس میں امیر سید اسمٰعیل قادری حضرت سید شاہ رفیع الدین محدث قادری (954ھ) میر سید جلال الدین قادری (983ھ)،حضرت غوث گوالیاری و فرزند ضیاء الدین قادری شطاری( 1005ھ) سید عبد القادر بخاری (1050ھ) میر سید عبد اللہ تبریزی مشکیں قلم( 1035ھ) شامل ہیں آگرہ کو حضور غوث اعظم کا فیض بخشتے رہے پہر وہ دور بھی آیا کے آگرہ سے دار السلطنت دہلی ہو گیا اور دہلی میں ہی بزرگوں کو قیام رہنے لگا آگرہ صوفیہ سے تو نہیں لیکن نظروں سے ضرور دور ہو گیا مغلوں کے زوال مراٹھوں کی حکومت اور جاٹوں کے حملوں نے آگرہ اور آگرہ والوں کو بہت مایوس کر دیا پھر 1857 ء اور 90 نوے سال بعد 1947 میں دھیرے دھیر شہر کے شرافاء و نجابہ جاتے رہے لیکن حضرت سید امجد علی شاہ کے دادا حضرت اہبراہم قطب مدنی نے جو سلسلہ قادریہ کا درخت لگایا تھا وہ حضور غوث اعظم کی روحانی توجعہ سے سید امجد علی شاہ اور ان کے خاندان میں لگاتار بڑ کر قادری سلسلہ کی روحانیت سے خلق خدا کو چھاوں دیتا رہا ہے سید مظفر علی شاہ الہی اکبرآبادی اپکے نبیرہ سبط ہیں اور حضرت سید محمد علی شاہ قادری نیازی علامہ میکش اکبرآبادی بھی آپکے نبیرئے چہارم ہیں گویا سید شیخ امجد علی شاہ قادری رحمہ اللہ علیہ رضوان حضرت قبلہ میکش صاحب کے دادا کے دادا ہیں

حضرت سید امجد علی شاہ قادری صاحب کا خاندانی پسے منظر - حضرت نسباً جعفری سادات میں سے ہیں آپ کے جدِ چہرم قطبِ مدینہ حضرت سید ابراہیم مدنی حسینی جعفری قادری رضی اللہ عنہ جو آستانئہ سرورے کائینات حضور سرکارے دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مجاور شیخِ وقت تھے مستجاب الدعوات بزگ تھے یہ حسینی خاندان آپنے علم و عمل تقوٰی و پرہیزگاری کے لئے مشہور تھا آپ کا نسب پچیس واسطوں سے حضرت اسحٰق محتمن ابنِ امام المسلیمین جانشینِ رسول حضرت امام جعفر صادق عہ  تک پہنچتا ہے

حضرت سید ابراہیم قطب مدنی حسینی جعفری صاحب رضہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اپنا محبوب شہر چھوڑ کر تبلیغِ دین اور حکمِ رسول کی تکمیل میں ہندوستان آگئے گجرات کے راستے ہوتے ہوئے اکبرآباد(آگرہ)آئے اسیی شہر کو اپنا مسکن بنا یا جو اس وقت ہندوستان کا دارالحکومت تھا نیذ، یہ آگرہ کا سنہرا دور بھی یعنی عہدِ جہاں گیر سلیم ابنِ شہنشاہ اکبر کا عہد جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور اور خوش حال ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ نظم و اطوار میں انتہائی نفیس حکومت تھی انگریز مورخوں کے مطابق سب سے بڑی اکانومی تھی بہرحال حضرت نے دربار شاہی سے کسی طرح کا کوئی رابطہ قائم نہیں فرمایا نا کبھی التفات کی نظر ڈالی یہی صوفیاء کا طریقہء اول روز سے رہا ہے البتہ جہاں گیر کا ایک سپاہ سالار خان جہاں لودھی آپ کی شہرت سن کر معتقد ہوا اور حلقہ مریدین میں شامل ہو گیا ایک مسجد اور حویلی آپکے لئے تعمیر کرائی جس میں کتب خانہ اور مدرسہ بھی تھا یہ جگہاں آگرہ میں پہلے لودھی خان کا ٹیلہ کہلاتی تھی انگریزوں کے زمانے میں اس علاقے کا نام " فری گنج پڑ گیا جو شہر کے بیچ میں واقع ہے

حضرت سید امجد علی شاہ صاحب کے والد حضرت سید احمد اللہ جعفری قادری صاحب کے زمانے تک یہیں سے سلسلئہ رشد و ہدایت چلتا رہا پھر وہ اپنے استاد مولانا شاہ عادل صاحب کے پاس تشریف لے آئے جہاں ایک مسجد و مدرسہ میں  درس و تدریس کا سلسلہ جاری فرمایا یہ جگہاں شاہی مسجد اور مدرسہ افضل خاں کے نام سے مشہور تھی اب "پنجہ مدرسہ" کہلاتا ہے یہیں حضرت شاہ عادل صاحب کا مزار بھی شاہی مسجد کے سحن میں ہے اس کے سامنے حضرت احمد اللہ  جعفری قادری صاحب کا مزار بھی ایک اونچے چبوترے پر واقع ہے

حضرت سید امجد علی شاہ صاحب نے اپنے والد سے تربیت و تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے حضرت محمد قاسم قادری صاحب اپنے خسر (سسور) سے علومِ مخفی حاصل کئے جو حضرت سید رفیع الدین صفوی محدث رحمہ اللہ  علیہ کی اولاد میں سے تھے  سید رفیع الدین صاحب سلسلہ قادریہ کے مشہور شیخ اور ہندوستان کے معروف عالمِ دین و محدث ہیں آپ سندِ حدیث میں ابنِ حجر عسقلانی  کے دو واستوں سے شاگرد ہیں،

سلسلہ نقشبندیہ چشتیہ میں پہلے حضرت کو مولانا ضیاء الدین بلخی سے بیعت و خلافت حاصل تھی حضرت مولانا ضیاء الدین بلخی نے ہی وصال سے قبل فرمایا تھا اب تمہیں حضرت غوث پاک کے صاحبزادے سے ملےگا جو عنقریب  تشریف لائیں گے اور مدارِ فقراء ان کی زبان پر ہوگا

علم: درس و تدریس کا شوق اور علم کا میلان اشد درجہ موجود تھا علم معقول و منقول میں درجی کمال حاصل تھا وقت کے پڑے علاماء سے تعلیم و تربیت حاصل کی علم اصولِ تفسیر  علم حدیث و فقہ میں سند حاصل تھی تصوف میں اس درجہ محو تھے کے بعد کے زمانِ میں تصوف ہر علم پر غالب آگیا تھا اکثر محویت اور بےخودی طاری رہتی تھی

ہم اثر : حضور قطبِ عالم شاہ نیاز بے نیاز رضہ  سے آپکو خاص محبت اور ربط تھا   قصرِ عارفاں میں ہے کہ آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا سلسلہ قادری میں داخل ہونے اور حضور شاہ بغدادی صاحب سے بیعت ہونے کے بعد طریقت کا رشتا اور قریب ہو گیا تھا

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی صاحب سے بھی خط و کتابت کا سلسلہ قائم رہا

شاہ محمدی "بےدار" اکبرآبادی فریدی فخری نظامی فارسی کے معروف شاعر اور حضرت فخر الدین فخرِ پاک رضہ کے خلیفاء تھے حضرت امجد علی شاہ صاحب نے آپ کی ایک غزل پر تضمین کہی ہے جو دیوان میں شامل ہے  یہ حضرت کے بہت عزیز اور مخلص رفقاء میں سے تھے اکثر ملاقات کا سلسلہ رہتا تھا

'بزمِ آخر' میں مفتی انتظام اللہ شہابی نے لکھا ہے کہ آگرہ میں اردو کا پہلا مشاعرہ حضرت مولانا امجد علی شاہ صاحب نے ہی کرایا تھا جس میں اسد اللہ غالب اور نظیر  اکبر آبادی بھی شریک ہوئے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کے حلقہ قربت میں عالم ادیب اور  صوفیاء سب ہی شامل تھے شاہ اکبر دانا پوری صاحب کے دادا و پیر حضرت قاسم ابوالعلائی صاحب نے بھی اپنی تحریروں میں  حضرت کا ذکر کیا ہے انوار العارفین میں محمد حسین مرادآبادی نے  حضرت سید انوار الرحمٰن بسمل صاحب نے ساداتِ صوفیاء میں  قصرِ عارفاں میں محمد رحمٰن چشتی صاحب نے گلشنِ بے خار میں مصطفیٰ خاں شیفتہ نے نغمئہ عندلیب میں حکیم غلام قطب الدین خان باطن  سوانح عمری غوثِ پاک مفتی انتظام اللہ صدیقی  تزکرۃ اللہی مولانا ابو الحسن فریدآبادی یادگارے شعراء  میں مسٹر اسپرنگر نسبِ معصومی حکیم معصوم علی تاریخِ مشائخِ قادریہ میں ڈاکٹر یحییٰ انجم نے

فرزندِ غوثِ اعظم میں حضرت سید محمد علی شاہ صاحب میکش اکبرآبادی نے مفصل زکر فرمایا ہے

سلسلہ قادریہ میں بیعت -  حضرت امجد علی شاہ صاحب خود تحریر فرماتے ہیں : جب فرزند  محبوبِ سبحانی حضرت شاہ عبداللہ بغدادی قادری آگرہ تشریف لائے اور محلہ تاج گنج میں قیام فرمایا تو میں حاضرِ خدمت ہوا اور قدم بوس ہوا حضرت نے میرا سر اپنے سینے لگا لیا اور مجمع کثیر میں فرمایا اے میرے بیٹے امجد علی میں اگرے میں اپنے جد حضرت غوث اعظم کے حکم سے اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں خرقئہ بزرگانِ کلاہ عَلم اور خلافت عنایت کروں میں حضرت غوث پاک کے حکم کی اتباع میں یہاں تک پہنچا ہوں تمہیں مبارک ہو کہ یہ دولت بے مانگے مل رہی ہے یہ سن کر خوشی کی حد نہ رہی اور مجھ پر ایک بے خودی طاری ہوگئی جب مجھے ہوش آیا تو میں نے عرض کیا کہ اے میرے آقا کمزور چیونٹی سے پہاڑ کا بوچھ کیسے برداشت ہوگا حضرت نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا  : واللہ غالب علی امرہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون(قرآن)

یہ منصب میرے جد حضرت غوث اعظم قدس سرہُ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے میرے ہاتھ سے لو اور قدرتِ قادریہ کا تماشا دیکھو حضرت غوث پاک نے ایک دُزدِ روسیاہ کو ایک نظر میں قطبِ وقت بنا دیا تھا تم تو شریفِ قوم اور صاحبِ علم ہو سید ہو اور درویشوں سے نسبت رکھتے ہو تمہارے والد بھی اسی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اگر تمہیں اپنی شفقت کی وجہ سے اس نعمت سے نوازا گیا تو کیا بعیدہے  پھر گیارویں کے دن مجھے طلب فرمایا  اور شرافاء نجبا اور مشائخ کے ایک بڑے مجمع کے سامنے اپنے ہاتھ سے مجھے خرقئہ خلافت پہنایا اور اپنے سر مبارک کی کلاہ میرے سر پر رکھی اور علمِ قادری اور خلافت نامہ جو میرے پاس موجود ہے عطا فرمایا اور مریدوں کو حکم دیا کہ ان کو میرا قائم مقام اور نائب سمجھتے ہوئے ہر مہینے کی گیارویں اور خاص کر بڑی گیارویں کی فاتحہ میں ان کے معاون رہیں اور میرے جد کی نیاز ان کو پہچایں بال برابر ان کے حکم سے انحراف نہ کریں جو کوئی ان کے خلاف ہوگا وہ میرے اور میرے جد نزرگ وار کے خلاف ہے بھر رام پور میں طلب فرما کر علم اور خلتِ خاص عطا فرمائی، " حضرت امجد علی شاہ صاحب آخری وقت تک اپنے شیخ حضور بغدادی صاحب کی پاس حاضر ہوتے رہے اور  روحانی تعلیم میں حضرت کی نظرِ کرامت سے مستفیض ہوتے رہے

حضرت شیخ مولوی احمد علی چشتی خیرابادی قصرِ عارفاں میں تحریر کرتے ہیں ۔

'ایک دن حضرت سید اپنے حجرہ خاص میں تشریف فرما تھے اور آپ کا خادم آپ کے دروزے پر کھڑا تھا مولوی امجد علی صاحب اس وقت رات کا ذکر کر رہے تھے رات نصف گزرگئی تھے کہ آپ کے دل میں اچانک اپنے پیر و مرشد کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ،بے قرار ہو کر حضور  سید صاحب کے حجر کی طرف دوڑے آئے،خادم نے روکا مگر آپنے پرواہ نہ کی اور حجر کے اندر چلے گئے دیکھا کہ دو ہم شکل بزگ ایک ہی مصلے پر تشریف فرما ہیں دونوں کی نورانی شکل اور چہروں پر جاہ و جلال دیکھ کر مولوی امجد علی حیران رہگئے،خاموش ہو کر ادناً کھڑے ہو گئے بڑی مشکل سے کچھ دیر بعد اپنے آپ کو حجر سے باہر لائے صبح ہوئی تو حضرت سید نے فرمایا مولوی صاحب رات تم نے جناب غوث پاک کی زیارت کی ہے،عرض کی یا حضرت مجھے تو دونوں شکلیں آپ کی دکھائی دی تھیں۔ میں ایک دوسر میں فرق نہیں کر سکا ،مچھے یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ،کہ آپ کون تھے اور حضور غوث الاعظم کون تھے میں رعب و جلال کی وجہ سے نہ قدم بوسی کر سکا ،اور نہ ہی ڈر کی وجہ سے کچھ التجا کر سکا ۔آپنے فرمایا انشاء اللہ کچھ عرصہ بعد تمہیں قدم بوسی اور التجا کرنے کی سعادت حاصل ہو جائے گی۔ ذرا کچھ عرصہ ریاضت کرنا ہوگی ،ہمارے جد امجد حضرت غوث الاعظم کی شکل و صورت ہم سے مشابہ ہے۔ مولوی صاحب ایک عرصہ تک ریاضت کرتے رہے ۔ایک دن آپ نے فرمایا مولوی صاحب آج رات کے آخری حصے میں ہمارے حجر میں چلے آنا  کوئی خادم تعرض نہیں کرےگا۔آپ حجر کے درواز پر پہنچے دروازہ خود بہ خود کھل گیا اندر گئے دونوں حضرات کی زیارت ہوئی اور دونوں کو پہچان کر ہر ایک کی دست بوسی علیدہ علیدہ کی، اور قدموں میں دوزانو ہو کر بیٹھ گئے بے پناہ نعمت حاصل ہوئی ' (صفہ 374،375 )

عشقِ اہلِ بیت:  سید اور صوفی باطنی شخصیت کا ایک خاصہ یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ اللہ اس کے دل میں اہلِ بیت کی فطری اور خاصی محبت ہوتی ہے حضرت سید امجد علی شاہ صاحب جدِ بزرگوار کا خون ہی مصطفوی حیدی حسنی حسینی تھا تو یہ ممکن کہاں تھا کے آپ کا دل محبتِ اہلِ بیت سے خالی ہوتا عشقِ اہلِ بیت میں سرشار رہتے امیر المومنین حضرت امام علی کرم اللہ وجہ کی شان میں  فرماتے ہیں....

سلطاں نشان ہر دو جہاں مرتضٰی علی

اصلِ وجودِ  کون  مکان  مرتضٰی  علی

ہی علی دوستی امجد علی مومن پر فرض

وقتِ رخست یہ سخن مرشد مجھے فرماگیا

ہر کسی کو اہلِ عالم بیچ ہے جائے پناہ

یا علی امجد علی کو ہے تمہارا آستاں

حضراتِ حسنین کریمنین علیم سلام کی مدح میں فرماتے ہیں...

کل حب حسین و ہم حسن دارد دلِ پر خون

بیا اصغر تما  شاکن  بہار صحن  با  غم   را

در مدح حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ ....

اسلام اے شہ جلاں و امیرِ عربی

جز ذات شریفِ تو بایں خوش لقبی

قادر توئی دانا توئی مشکل کشا سرور توئی

ابنِ حسن صفدر توئی یا غوث العظم الغیاث

محرم کی بڑے نذر شہر میں آپ ہی کی طرف سے ہوا کرتی تھی جس میں کثیر تعداد میں لنگر تقسیم کیا جاتا اور محافلِ منعقد ہوتیں ان دنوں آپ کی کیفیت عجیب ہوجایا کرتی تھی

اکثر خلوت میں ہی رہتے آپ نے وصیت میں بھی محرم الحرام کے لنگر اور نذر کے اہتمام کا حکم فرمایا

مسلک:  صاحبان تصوف کی طرح آپکا نظریہ بھی وحدۃ الوجود ہی تھا ایک مکتوب میں جو حضرت شاہ محمدی بیدار دہلوی کے نام ہے  فرماتے ہیں

جز ذاتِ خدا دریں جہاں نیست

واللہ  باللہ  دریں  گماں  نیست

بے شکل و بہ شکل اوست عالم

بے شبہ  و بہ   شبہ  اوست  آدم

( صفہ نمبر 136 ،از دیوان  اردو فارسی جائیب و غرائیب سید امجد علی شاہ قادری )

ان اشعار سے اہلِ علم و دانش با خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ خاص شیخِ اکبر ابن عرابی کا نظریہ وحدۃ الوجود ہے یہ صوفینہ تعلیمات کا جز بھی یے اس پر آپ کا پوری زندگی عمل بھی رہا

اہلِ سنت حنفی المشرب، شعریت کے سختی سے پابند اور فقہ کے باریک رمز شناس سنت رسول کے پابند قرآنی حصول کے دلدادہ طریقت کو کبھی شعریت کی ڈال نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ شعریت کی بنیادی اصولوں کی پاپنبی سے تقوی زہد و ورع استقامت کی منازل طے کیں،

اخلاق: انکسار حلم و بردباری انسان دوستی کے کیئ مثالی واقعات اپکی روزمرہ کی زندگی میں وارد ہو تے تھے مسکینوں غریبوں پر انتہائی شفیق تھے سادگی کو ترجیح دیتے نفاست پسند تھے الغرض ایک روز آپ کے شیخ حضور بغدادی صاحب نے آپو کشکول جو پانی سے بھرا تھا لے جاتے دیکھا تو فرما امجد علی "فقر میں فخر اختیار کرو"  حکم کی تعمیل میں آپ نے ظاہراً شہانہ طرزِ زندگی اپنا لی دل میں اخر تک قلندرانہ 'خو ' رہی آپکی خانقاہ سے ہزاروں لوگ کھانہ کھاتے اور  دعاء کرتے اپنی حاجات بر لاتے تھے

ایک دیوان اور چند تحریریں آپ کی یادگار ہیں جس میں چار قصائد حضرت امام علی مرتضیٰ کرم اللہ کریم پر تین حضور غوث پاک پر اور ایک ایک حضرت بہاء الدین نقشبندی رح اور حضرت ضیا الدین بلخی رح پر ،"251 کے قریب اردو غزلیں بھی شامل ہیں اس کے علاوہ پورا دیوان فارسی میں ہے جو 2413 فارسی اشعار 915 اردو اشعار جس میں ایک مثنوی قطعات 44 رباعیات 14 قصائد پر مشتمل ہے 1266 ھ جام جمشید آگرہ سے شائع ہوا"

(صفہ نمبر 188 کتاب حضرت غوث الاعظم سوانح و تعلیمات مع تذکرہ فرزند غوث الاعظم رح مصنف حضرت سید محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی رح )

آپ کے خلافاء و مریدین کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے سلسلے قادریہ میں ہندوستان کے مشہور و معروف بزرگ ہیں جن سے اب تک روحانی فیض جاری ہے سجادہ نشین درگاہ حضرت سید اجمل علی شاہ جعفری قادری نیازی آپ کے سلسلئہ نسب میں چھٹی پیڑی اور موجودہ وقت میں آپکے قائم مقام اور جانشینِ نسبی و باطنی ہیں

ہر سال دو 2تاریخ کو ربع الاول میں حضرت کا عرس ہوتا ہے

٢ربع الاوّل  ١۲٣۰ھ کو وصال فرمایا

لوحِ مزار پر یہ تاریخ کندہ ہے :

عارفِ کامل ولی ابنِ ولی قطبِ دیں

عالم علمِ نبی کاشفِ رازِ علی

چونکہ بہ جنت رسید جملہ ملائک بگفت

واقفِ راہِ خدا سید امجد علی

شجرہ نسب

سید امجد علی شاہ ابن سید  مولانا احمد اللہ احمدی  ابن سید مولوی الہام اللہ ابن سید خلیل اللہ ابن سید فتح محمد ابن سید ابراہیم قطب مدنی ابن سید حسن ابن سید حسین ابن سید عبد اللہ ابن سید معصوم ابن سید عبید اللہ نجفی ابن سید حسن ابن سید جعفر مکی ابن سید مرتضٰی ابن سید مصطفٰے حمید ابن سید عبدالقادر ابن سید عبد الصمد کاظم ابن سید عبد الرحیم ابن سید مسعود ابن سید محمود ابن سید حمزہ ابن سید عبد اللہ ابن سید نقی ابن سید علی ابن سید محمد اسد اللہ ابن سید یوسف ابن سید حسین ابن سید اسحق المدنی ابن امام المشارق و المغارب امام سید  جعفر صادق ابن امام سید محمد باقر ابن امام زین العابدین سید علی بن سید الشہداء امام حسین ابن امیر المومنین امام المتقین سید علی مرتضٰی کرم اللہ وجہ و علیہ اسلام

شجرہ طریقت

اللہ جل جلالہ

الٰہی سید الخلق اشرف الانبیاءوالمرسلین سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

الٰہی امیر المومنین و امام الواصلین سیدنا امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ الکریم

الٰہی امام سید شباب اہلِ جنت سیدنا حسین الٰہی سیدنا امام علی زین العابدین الٰہی امام سیدنا محمد باقر الٰہی امام سیدنا جعفر صادق الٰہی امام سیدنا موسٰی کاظم الٰہی امام سیدنا علی رضا الٰہی سیدنا معروف الکرخی الٰہی سیدنا السر سقطی الٰہی سیدنا ابی قاسم الجنعد بغدادی الٰہی سیدنا ابوبکر شبلی الٰہی سیدنا عبد الواحد التمیمی الٰہی سیدنا ابی الفرح الطرطوسی الٰہی سیدنا ابی حسن ھنکاری الٰہی سیدنا ابی سعد المبارک مخزومی الٰہی سیدنا شیخ الطریقت و معدن الشریعت و الحقیقت حضرت الغوث العظم السید شیخ عبد القادر الگیلانی الٰہی سیدنا  عبد العزیز گیلانی الٰہی سیدنا محمد ھتاک الٰہی سیدنا شمس الدین الٰہی سیدنا شرف الدین الٰہی سیدنا زین الدین الٰہی سیدنا ولی الدین  الٰہی سیدنا نور الدین الٰہی سیدنا درویش الٰہی سیدنا محمود الٰہی سیدنا عبد الجلیل الٰہی سیدنا عبد اللہ بغدادی الٰہی سیدنا امجد علی شاہ

(رضوان اللہ علیہ اجمعین)

اربابِ تاریخ و سیر تذکرہ نگار کی نظر میں  :

قادریہ سلسلہ کے زیادہ تر تذکرہ میں آپ کا ذکر آسانی سے مل جاتا ہے اردو کے قدیم شعراء پر  کلھی گئیں اکثر کتابوں میں اور خاص کر آگرہ کے صوفی بزرگ شعرا میں، آگرہ کے فارسی شعراء کے انوان سے مفتی انتظام اللہ شہابی کے مضمون میں بھی آپ کا نامِ نامی اسم گرامی شامل ہے آفتابہ اجمیر میں بھی تفصیلی بیان موجود ہے ، 

آگرہ کے فاسری شعراء ۔۔۔

"اصغر اکبرآبادی ۔مولوی سید امجد علی شاہ متفی 1230ھ

عاشق چیست بیقرار ایہا

زیستن  در  امیدوار  ایہا "

(شاعر آگرہ نمبر 1936جون ،جولائی صفہ نمبر 71 )

جناب حافظ محمد حسین مرادآبادی

سید السند محب الفقراء الغرابا شیخ المشائخ طریقئہ قادری مولوی امجد علی ابن مولوی سید احمد اللہ جعفری حضرت سید عبداللہ بغدادی کے خلیفہ اعظم تھے ان کے طریقے کے لوگ کہتے ہیں کہ حضرت سید عبد اللہ ارشاد حضرت محبوب سبحانی کی تعمیل میں ان کی تعلیم کے لئے بغداد سے ہندوستان تشریف لائے تھے ان کا نسب پچیس واسطوں سے حضرت سید اسحٰق ابن امام جعفر صادق تک پہنچتا ہے

(انوار العارفین صفحہ نمبر 598 مطبع منشی نول کشور لکھنو )

حکیم قطب الدین باطن

نے اپنے تذکرے میں ان کا احوال قلمبند کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے

" اصغر و امجد تخلص مولوی امجد علی خلف مولوی احمدی زیب جدِ دہلی (آگرہ) ،اپنے فن کے استاد تھے ۔ حضرت سید عبد اللہ صاحب بغدادی کے اخص خاصان اولاد محبوب سبحانی سے تھے ،خرقہ خلافت ان کے سے تن مبارک کو پیرایہ  دیگر باقی عمر کو بیچ فقر کے بسر لیگئے صدہانا قصون کے فیض انفاس متبرکہ سے استفادہ کامل لیا احقر اونکے کلام سے مستفیض ہوا اور عجب لطف پایا بندگی والد مرحوم سے بہت ربط تھا ان کا کلام انکو ضبط تھا "



(-گلستان بے خزاں (نغمئہ عندلیب ) صفحہ نمبر : 6،7 / تاریخ ادب اردو جلد دوازدہم صفحہ نمبر  :459،460)

نواب مصطفٰے خاں شیفتہ

لکھتے ہیں اصغر تخلص سید امجد علی اکبرآبادی ۔ حکیم محمد میر کے جو میرے والد کے دوستوں میں تھے بڑے بھائی تھے بزرگ خاندان کے فرد تھے سید عند اللہ بغدادی علیہ الرحمۃ سے خلافت حاصل کی اور عزت وقار اور تورع کے ساتھ زندگی بسر کی.

(گلشنِ بے خار، صفحہ نمبر 81 )

حضرت سید انوار الرحمن بسمل جے پوری نقشبندی بخاری نیازی

آپ خلیفہ حضرت سید عبد اللہ بغدادی ،،،، اکابر اولیائے امت میں سے تھے اصغر تخلص فرماتے تھے حضرت عبد اللہ شاہ بحکم حضرت غوث اعظم آپکی تربیت باطن کے لئے بغداد سے تشریف لائے تھے آپ کے نبیرہ سید مظفر علی شاہ بھی آگرہ کے مشہور مشائخ میں سے تھے آپ نسباً ساداتِ جعفری میں سے ہیں اور اب تک ساداتِ میوہ کٹرہ کا حسب نسب مسلم ہے

(سادات الصوفیہ صفحہ نمبر 137)

حضرت مولانا عاشق حسین صدیقی وارثی علامہ سیماب اکبرآبادی

"سید امجد علی شاہ جعفری قادری آپ کے جدِ پنجم قطب الاقطاب مولانا سید ابرہیم قطبِ مدنی جعفری مدینہ منور سے بعہد جہانگیر آگرہ تشریف لائے خان جہاں لودی جو جہانگیری عہد کا مشہور امیر تھا آپ کا معتقد اور مرید تھا اس نے آپ کے لئے مدرسہ مسجد اور مکانات اپنے محل کے قریب تعمیر کرا دئے تھے جس ۔مقام پر یہ مکانات تھے وہ اب لودی خاں کا ٹیلہ کہلاتا ہے آپ سید عبد اللہ بغدادی رامپوری کے خلیفہ اعظم تھے ،شاعری میں اصغر تخلص فرماتے تھے، آپ کا مطبوعہ دیوان موجود ہے ، 1230 ھ میں آپ نے وفات پائی محلہ مدرسہ میں آپ کا مزار ہے"

('آگرہ کے صوفی شعراء' شاعر 'آگرہ' نمبر جون 1936 صفحہ نمبر 52 )

ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم

ہمدرد یونیورسٹی،دہلی

"آپ کو حضرت سیدنا غوث اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان سے والہانہ لگاؤ تھا جس کا اندازہ اس جوش خروش سے ہوتا ہے جس کا مظاہرہ ہر سال گیار ہویں کے موقع سے کیا کرتے تھے ،،،،،،،

آپ نے انتہائی پر وقار انداز میں زندگی بسر کی ہر ایک چھوٹے بڑے کے دل میں آپ کا بیحد احترام تھا ۔ زمانہ کے معتبر اور مستند لوگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا "

(تاریخ مشائخ قادریہ ،جلد دوم صفہ 215،216 )

سعید احمد مارہروی

نے بھی بوستان اخیار میں حضرت کا ذکر کئی مقام پر کیا ہے سوانح صفہ نمبر 50،51،52 پر حالتِ زندگی و مناقب وغیرہ ذکر کئے ہیں

مفتی انتظام اللہ شہابی

مہتابہ اجمیر غریب نواز میں صفحہ 106،107،108 میں 109 میں آپکے خلافاء اور سجادہ نشین دویم سید مظفر علی شاہ قادری نظامی صاحب کا ذکر صفحہ نمبر 112 پر کیا ہے

سید محمد محمود رضوی مخمور اکبرآبادی

نے اپنی کتاب نظیر نامہ میں لکھا ہے

' جناب محمد علی شاہ میکش اکبرآبادی ،غزل کہنے والوں میں ،آج سر آمدِ شعرائے روزگار ہیں وحدت الوجود ' کا مسلک ان کا خاص موضوع ہے ،جناب سید امجد علی شاہ اصغر رح تین در میانی روابط کے ساتھ جناب میکش کے جد اعلٰی ہیں اصغر :

جب حسنِ  ازل  پردہ امکان   میں  آیا

بے رنگ بہ ہر رنگ ہر ایک شان میں آیا

تضمین نظیر اکبرآبادی :

وہ رنگ کہیں لعل بد خشان میں

نیلم میں کہیں گوہر غلطان میں آیا

یاقوت میں الماس میں مرجان میں آیا

جب حسن ازل پردہ امکان میں آیا

بے رنگ بہر رنگ ہر ایک شان میں آیا

امکان ایک الٰہیاتی لفظ ہے اور یہاں اصطلاحی معنی میں استعمال ہوا ہے لغوی میں نہیں امکان بالکسر افعال کے وزن پر مصدر ہے اور اہلِ حکمت کی اصطلاح میں معینہ معنی ہی رکھتا ہے ،اس جہت سے اس کو اسم معرفہ یا علم کا درجہ حاصل ہے امتناع کے تصور میں عدم لازمی ہے مگر امکان میں عدم اور وجود دونوں ضروری نہیں ، بہر حال امکان علمی اصطلاح ہے اور اصطلاح کے کسی حرف میں تغیر لانا گویا اصطلاح شکنی ہے اور ارباب علم کے نزدیک معیوب۔ جناب اصغر صوفئی با صفا اور عالمِ اجل تھے ،یہ پہلو ان کے ذہن میں موجود تھا ، میاں نظیر نے بھی جو خود اس پہلو سے آگاہ تھے حضرت اصغر کے اسوہ حسنہ کا اتباع کیا ہے

(نظیر نامہ: صفحہ 477،478 )

خلفاء اکرام

خلیفہ فرزند اکبر و جانیشن حضرت سید منور علی شاہ قادری

• سید حکم نور الدین قادری

• سید امام الدین

• سید مولوی شریف الدین

• سید امام علی شاہ

• سید محمد وکیم

سجادگان :

حضرت سید منور علی شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ 

حضرت سید مظفر علی شاہ قادری  فخری نظامی نیازی رحمۃ اللہ 

حضرت سید اصغر علی شاہ قادری نیازی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سید محمد علی شاہ قادری نیازی علامہ میکش اکبرآبادی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سید معظم علی شاہ قادری نیازی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت سید محمد اجمل علی شاہ قادری نیازی مدظلہ عالی

نمونہ کلام :

مجاز سے جو  حقیقت کا ہم نے کام لیا

بتوں کی دیکھ کے صورت خدا کا نام لیا

سوائے خونِ جگر کے ملی نہ اور شراب

مثالِ لال لہ بہ کف جب سے ہم نے جام لیا

صنم کو دیکھ کے محراب ابروئے خمدار

گرا تھا سجدے کو پر مچھ کو حق نے تھام لیا

قضا کے نیچے سے چھوٹا نہیں کوئی ہر گز

جو صبح اس سے بچے تو بہ وقتِ شام لیا

عجب ہم فقر کا عالم کہ یم نے یاں اصغر

خودی کو بھول گئے جب خدا کا نام لیا

--------------------------------

حب  حسن ازل  پردہ امکان   میں  آیا

بے رنگ بہ ہر رنگ ہر ایک شان میں آیا

اول وہی آخر وہی اور ظاہرو باطن

مذکور یہی   آیتِ  قرآن   میں   آیا

گل ہے وہی سنبل ہے وہی نرگسِ حیراں

اپنے ہی تماشے کس گلستان میں آیا 

حرمت سے ملائک نے اسے سجدہ کیا ہے

جس وقت کے وہ صورت انسان میں آیا

مطرب وہی آواز وہی ساز وہی ہے

ہرتار میں بولا وہ ہر ایک تان میں آیا

نزدیک ہے وہ سب سے جہاں اس سے ہے معمور

جب چشم کھلی دل کی تو پہچان میں آیا

بے رنگ کے رنگوں کو یہاں دیکھ لے "اصغر"

سو طرح سے عالم کے خیابان میں آیا

----------------------------

عقل کو چھوڑ کے دل عشق کے میدان میں آ

دیکھ لے نور خدا عالم عرفان میں آ

وہی صوفی ہے کہ مسجد میں پڑھے ہے گا نماز

جام پیتا  ہے  وہی  مجلسِ  رندان  میں آ







TASANEEEF

  • LUGHAT(NAZEER AKBERABADI K ISTIMAAL KARDA ALFAAZ)
  • MUKHTALIF RISALO ME SHAYA SHUDA MAZAMEEN
  • AGRA AUR AGRAWALE
  • FARZAND-E-GHUS UL AZAM
  • TAUHEED AUR SHIRK (NASR)
  • MASAIL-E-TASAWWUF(NASR)
  • NAGHMA AUR ISLAM (NASR)
  • NAQD-E-IQBAL(NASR)
  • DASTAN-E-SHAB(SHERIMAJMOA)
  • HARFE TAMANNA (SHERIMAJMOA)
  • MAIKADA(SHERIMAJMOA)